کسی کی یادیں مِری چشم تر میں رہتی ہیں
یہ کشتیاں ہیں کچھ ایسی بھنور میں رہتی ہیں
زمانہ ہو گیا نیندیں نہیں نصیب ہوئیں
ہماری خواہشیں ذہنی سفر میں رہتی ہیں
کہیں سے پنکھ ملیں اور آسماں چھو لیں
کچھ ایسی حسرتیں ہر اک بشر میں رہتی ہیں
یہ سوتی جاگتی رہتی ہیں اس کی یادوں میں
ہماری آنکھیں اسی کے اثر میں رہتی ہیں
سفر حیات کا پر لطف ہے مگر اے دوست
مصیبتیں بھی اسی رہگزر میں رہتی ہیں
ہوا میں تیرتی پھرتی ہیں کتنی افواہیں
دکھائی دیتی نہیں اور خبر میں رہتی ہیں
ترونا مشرا
No comments:
Post a Comment