بھلے سے دن اب کہاں ملیں گے؟؟
بتاؤ لوگو
کہ اب تو افتادِ روز و شب سے
یہ جی توانا رہا نہیں ہے
سناتے ہم بھی وہ داستاں دل کی
پر وہ دل ہی رہا نہیں ہے
ہجر کے صحرا میں خاک اڑاتے
ہمیں زمانہ گزر چکا ہے
محبتوں کا حسین گالوں پہ جو تھا غازہ
وہ سب کا سب ہی اتر چکا ہے
بتاؤ لوگو
بھلے سے دن اب کہاں ملیں گے
کہ ہم تو اب بے زباں پڑے ہیں
ہماری آنکھوں کے اجڑے گڑہوں میں
عہدِ رفتہ کے جل بجھے کچھ نشاں پڑے ہیں
ہماری ہمت بھی تھک گئی ہے
تمہی بنو مہرباں اے لوگو
ہمارے من کے پرانے کنوئیں میں
ایک مدت سے جو لگی ہے اداس کائی
ہٹاؤ لوگو
بھلے سے دن اب کہاں ملیں گے
بتاؤ لوگو
نازش غفار
No comments:
Post a Comment