Tuesday, 1 February 2022

بہت دنوں کے بعد جو دیکھا اتنا سکوں اور اتنی خوشی

برہا کا گیت​


بہت دنوں کے بعد جو دیکھا اتنا سکوں اور اتنی خوشی​

دکھ اور درد کی کیا اوقات میں آنکھ جھپکنا بھول گئی​

سوچا تھا وہ آئے گا تو لگ کے گلے میں روؤں گی​

سکتا ہو گیا مجھ پہ طاری میں تو بلکنا بھول گئی​

جیسے چھوٹے بچے اپنی ماں کے لئے رو پڑتے ہیں​

ہائے وصل کی بے تابی میں تو رو پڑنا بھول گئی

​اس کے پیار نے اتنی طاقت میری رگوں میں بھر دی تھی​

میں تو سماج کے ظالم ہتھکنڈوں سے ڈرنا بھول گئی​

اس کے پیار سے بڑھ گئی میری شرم و حیا کچھ اور سکھی​

بس اظہار تھا کرنا چاہا کیسے جھجھکنا بھول گئی​

اس کی آمد نے دنیا کی ہر اک شئے میں رنگ بھرے​

میں تو میں ہوں بام پہ بیٹھی چڑیا پُھدکنا بھول گئی​

دیکھ کے اس کو بہکی بہکی باتیں میں بھی کرنے لگی​

عقل و خرد کے سارے سبق جو یاد تھے کرنا بھول گئی​

سوچا تھا کھولوں گی دفتر شکوے شکایت کے سارے​

آنکھوں نے وہ دریا بہائے میں تو بھڑکنا بھول گئی​

آنکھوں سے آنسو تھے جاری اور وہ بہلاتا ہی رہا​

اتنا خوش تھی اتنا خوش تھی کہ میں بہلنا بھول گئی​

اس نے چنریا میری پکڑی اور پکڑ کر چھوڑ بھی دی​

بس اس ایک ادا پر میں تو بننا سنورنا بھول گئی​

سوچا تھا میں کہہ دوں گی کب میں نے تم سے پیار کیا​

جیسے اس کی صورت دیکھی میں تو مکرنا بھول گئی​

اس کے ملنے کی خوشیوں میں یاد نہیں اب کوئی دکھ​

اس کی جدائی کی لمبی راتوں میں تڑپنا بھول گئی​

بہت دنوں کے بعد جو دیکھا اتنا سکوں اور اتنی خوشی​

دکھ اور درد کی کیا اوقات میں آنکھ جھپکنا بھول گئی


ندیم مراد​

No comments:

Post a Comment