کبھی دنیا سے کبھی دل سے نبھاتے رہے ہم
رہِ ہستی میں ہر اِک بوجھ اٹھاتے رہے ہم
بڑے معصوم تھے اس بات پہ خوش ہوتے تھے
کہ زمانے کو اداسی میں ہنساتے رہے ہم
ہمیں معلوم تھا منہ موڑ لیا کرتے ہیں
باوجود اس کے نئے دوست بناتے رہے ہم
کبھی فرصت کی گھڑی اپنی ہی خاطر نہ ملی
یہ الگ بات کہ لوگوں کو ملاتے رہے ہم
کبھی بچوں کو اندھیروں میں بھٹکنا نہ پڑے
سو لہو دے کے چراغوں کو جلاتے رہے ہم
زندگی بھی ہے کسی شوخ طوائف کی طرح
یہ ستاتی رہی جتنا کہ مناتے رہے ہم
زندگی تیرے سبھی درد ہیں منظور ہمیں
تِرے ہر داغ کو آنکھوں سے لگاتے رہے ہم
یہ پتہ تھا کہ ملے گا نہ بچھڑ کر وہ کبھی
مگر اک شخص کو تا عمر بلاتے رہے ہم
یحییٰ خان یوسفزئی
No comments:
Post a Comment