سکوتِ شب میں کسی ہجر نے پکارا ہے
سنو، یہ چاند نہیں ٹوٹتا ستارہ پے
اداس رستے میں اک یاد ہم سفر ہے مری
مجھے یقین ہے یہ دوسرا کنارہ ہے
میں کیا بتاؤں اذیت کی انتہا کیا تھی
کہ جیسے پیاس کو بھی آگ سے گزارا ہے
یہ میرے شعر مِرے درد سے شناسا ہیں
یہ وہ خوشی ہے کہ جو رنج کا سہارہ ہے
بچھڑتے وقت خوشی کی جھلک تھی چہرے پر
میں کیسے مان لوں میرے بِنا خسارہ ہے
ابھی وہ رنگ مِری آنکھ سے نہیں لپٹے
ابھی وہ روپ کسے دیکھنے کا یارا ہے
مِری تو خیر اداسی سے دوستی ہے عزیز
بچھڑنے والو! کہو، حال کیا تمہارا ہے
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment