Thursday, 19 November 2020

یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے

 یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے 

جمیل زخم لگے اور بے حساب لگے 

تمہارے بعد نہ تکمیل ہو سکی اپنی 

تمہارے بعد ادھورے تمام خواب لگے 

میں کیسے تجھ کو پکاروں کہاں سے لاؤں تجھے 

ترے بغیر اگر زندگی عذاب لگے 

میں جتنی بار پڑھوں کیسے کیسے رنگ بھروں 

ترا گلاب سا چہرہ مجھے کتاب لگے 

ہر اک سوال پہ تو مسکرا کے رہ جائے 

ہمیں تو ایک ہی جیسا ترا جواب لگے 

دکھائی دے کبھی مہتاب میں تری صورت 

کبھی تو دن کے اجالے میں آفتاب لگے 

جمیل خواب حقیقت نما بھی ہوتے ہیں 

وہی قریب رگ جاں ہے جو سراب لگے 


جمیل ملک

No comments:

Post a Comment