Tuesday, 3 January 2017

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اَٹ گئی
دیوار سے لگی تِری تصویر پھٹ گئی
لمحوں کی تیز دوڑ میں، میں بھی شریک تھا
میں تھک کے رک گیا تو مِری عمر گھٹ گئی
اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر
میرے مقابلے میں مِری ذات ڈٹ گئی
سورج کی برچھیوں سے مِرا جسم چھِد گیا
زخموں کی سولیوں پہ مِری رات کٹ گئی
احساس کی کرن سے لہو گرم ہو گیا
سوچوں کے دائروں میں تِری یاد بٹ گئی

سبط علی صبا

No comments:

Post a Comment