آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اَٹ گئی
دیوار سے لگی تِری تصویر پھٹ گئی
لمحوں کی تیز دوڑ میں، میں بھی شریک تھا
میں تھک کے رک گیا تو مِری عمر گھٹ گئی
اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر
سورج کی برچھیوں سے مِرا جسم چھِد گیا
زخموں کی سولیوں پہ مِری رات کٹ گئی
احساس کی کرن سے لہو گرم ہو گیا
سوچوں کے دائروں میں تِری یاد بٹ گئی
سبط علی صبا
No comments:
Post a Comment