Tuesday, 3 January 2017

جل کے ٹھنڈے ہوے ترے غم میں

جل کے ٹھنڈے ہوئے تِرے غم میں
ہم کو جنت ملی جہنم میں 
کچھ تِرا شوق کچھ تِری حسرت
اور رکھا ہی کیا ہے اب ہم میں
عرق آلودہ رخ تِرا شبِ وصل
غرق ہے آفتاب شبنم میں 
کیا اس نازکی پہ دعویٰ ہے
آپ پھرتے ہیں چشمِ عالم میں
چل گئی چال آپ کی ہم پر
سیدھے سادھے تھے آ گئے دم میں
ہو گیا عید ان کو میرا سوگ
قہقہے اڑ رہے ہیں ماتم میں
رو سیاہی گئی نہ اے زاہد
ڈوب مرنا تھا چاہِ زمزم میں
بزمِ دشمن میں کس طرح مرتا
موت آتی نہیں جہنم میں
دل کی قیمت بہت ہے نیم نگاہ
یہ تو آۓ گا اس سے بھی کم میں
دل کو آشفتگی نے کیوں گھیرا
یہ بھی ہو جمع زلفِ برہم میں
جب سے دیکھی ہے ہم نے تیری پلک
پڑ گیا بال چشمِ پُر نم میں
اب عنایت ہے کیوں خدا کے لیے
کون سی بات بڑھ گئی ہم میں
داؔغ کو وہ جلا کے کہتے ہیں
ہم نے روشن کیا ہے عالم میں

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment