Tuesday, 3 January 2017

وہ بت دل میں مہماں ہوا چاہتا ہے

وہ بت دل میں مہماں ہُوا چاہتا ہے
نیا دین و ایماں ہوا چاہتا ہے
لبِ یار خنداں ہوا چاہتا ہے
کوئی عہد و پیماں ہوا چاہتا ہے
تِرا پیرہن میری باتوں سے ناصح
مِرا ہی گریباں ہوا چاہتا ہے
تِری دوستی میں یہ تھوڑی خوشی ہے
کہ دشمن پشیماں ہوا چاہتا ہے
شبِ وصل آخر ہوئی، جلد جاؤ 
یہاں اور ساماں ہوا چاہتا ہے
کہے دیتی ہے سرگرانی ہماری
اجل کا کچھ احساں ہوا چاہتا ہے
نگاہِ تغافل نے تلوار کھنچی
یہاں خونِ ارماں ہوا چاہتا ہے
تھکا کر بٹھانے لگی مجھ کو گردش
بیاباں بھی زنداں ہوا چاہتا ہے
اسی واسطے ہاتھ اپنا ہے دل پر
کوئی اس کا خواہاں ہوا چاہتا ہے
کِیا داغؔ گو اس نے جھوٹا ہی وعدہ
تِرا کام آساں ہوا چاہتا ہے

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment