یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی
کلوں کے شہر میں بھی نوکری نہیں ملتی
جو سوت کاتنے میں رات بھر رہی مصروف
اسی کو سر کے لیے اوڑھنی نہیں ملتی
رہِ حیات میں کیا ہو گیا درختوں کو
غنودگی کا کچھ ایسا طلسم طاری ہے
کوئی بھی آنکھ یہاں جاگتی نہیں ملتی
یہ راز کیا ہے کہ دنیا کو چھوڑ دینے سے
خدا تو ملتا ہے،۔۔۔ پیغمبری نہیں ملتی
گزر رہی ہے حسیں وادیوں سے ریل صباؔ
ستم ہے یہ کوئی کھڑکی کھلی نہیں ملتی
سبط علی صبا
No comments:
Post a Comment