تم اپنے بچوں کو آدمیت کے خوں سے رنگیں نصاب دو گے
تو آنے والے عظیم کل کے حضور میں کیا حساب دو گے
کبھی تو اندھی عقیدتوں کے حصار مسمار کر کے دیکھو
بتاؤ، صبحِ وطن کو کب تک گہن زدہ آفتاب دو گے
ہم اپنے کچے مکاں کی تاریکیوں میں دم گھٹ کے مر نہ جائیں
نفس نفس اب وبالِ جاں ہے گھٹن کا کب تک عذاب دو گے
تم اپنے کالے علوم کے تجربوں میں گم ہو، بتاؤ کیسے؟
یتیم بچوں کو ماں کی شفقت کے بہتے دریا کا آب دو گے
سبط علی صبا
تو آنے والے عظیم کل کے حضور میں کیا حساب دو گے
کبھی تو اندھی عقیدتوں کے حصار مسمار کر کے دیکھو
بتاؤ، صبحِ وطن کو کب تک گہن زدہ آفتاب دو گے
ہم اپنے کچے مکاں کی تاریکیوں میں دم گھٹ کے مر نہ جائیں
نفس نفس اب وبالِ جاں ہے گھٹن کا کب تک عذاب دو گے
تم اپنے کالے علوم کے تجربوں میں گم ہو، بتاؤ کیسے؟
یتیم بچوں کو ماں کی شفقت کے بہتے دریا کا آب دو گے
سبط علی صبا
No comments:
Post a Comment