پر نہیں گیلے ہونے دیتی یہ مخلوقِ آبی
ایسے رہو دنیا میں جیسے دریا میں مرغابی
ہر دل کا دروازہ کھولے جو بھی ہنس کر بولے
میٹھا بول محبت والا ہر تالے کی 🔑چابی
تُو اور میں کیسے خوش رہ سکتے ہیں اک کشتی میں
رقص کی رو میں کھلتے ہیں محبوب کے گپت اشارے
عشق میں میں ہرگز کام نہیں آتا کچھ علم کتابی
ہم نے دل کی انگلی پکڑی، تُو نے عقل کا دامن
ہم راضی با رضا ان پڑھ اور تُو ناراض نصابی
تیرا سنگِ سماعت نرم کریں کیا میری غزلیں
پانی کے بس میں نہیں ہوتی پتھر کی سیرابی
دریا میں کٹ کر بہنے لگتے ہیں مِرے کنارے
مٹی سے نہیں دیکھی جاتی پانی کی بے تابی
آ جاتی ہے میرے مصرعوں کے منہ پر بھی رونق
گاہے گاہے جھلک اٹھتے ہیں اس کے گال گلابی
موت کی اندھی بے تہہ کھائی بھاگ نہیں جائے گی
اے ڈھلوان پہ ٹھہرے پتھر! کیا ہے تجھ کو شتابی
سیدھا سادھا مشاہدہ ہے اک بے تشبیہہ و علامت
گورے پاؤں میں اچھی لگتی ہے کالی گرگابی
علی ارمان
No comments:
Post a Comment