Sunday, 11 April 2021

اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر

 اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر

دنیا کو چھوڑ جاؤں گا دامن کو جھاڑ کر

یہ آئینہ فریبِ نظر ہے، بہت نہ دیکھ

اک روز تجھ کو پیش کرے گا بگاڑ کر

مہماں سرائے جاں میں کوئی ٹھیرتا نہیں

جب سے چلا گیا اسے کوئی اُجاڑ کر

فرخ ہوا ہے تیز،۔ قدم کو جما کے رکھ

ورنہ یہ پھینک دے گی تجھے بھی اُکھاڑ کر


فرخ جعفری

No comments:

Post a Comment