Monday, 12 April 2021

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

 خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

وہاں بھی جائے کہ جس جا گماں نہیں جاتا

بس اپنے باغ  میں محوِ خرام رہتا ہے

کہ خود سے دور وہ سروِ رواں نہیں جاتا

حجاب اس کے مِرے بیچ اگر نہیں کوئی

تو کیوں یہ فاصلۂ درمیاں نہیں جاتا؟

کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگے

مگر وہ زخم کہ جس کا نشاں نہیں جاتا

نہ جانے اس کی زباں میں ہے کیا اثر فرخ

کہ اس سے ہو کے کوئی بدگماں نہیں جاتا


فرخ جعفری

No comments:

Post a Comment