Monday, 12 April 2021

دہر میں اک ترے سوا کیا ہے

 دہر میں اک تِرے سوا کیا ہے

تُو نہیں ہے تو پھر بھلا کیا ہے

صِلۂ ذوقِ مے کشی معلوم

ظرف کیا شے ہے حوصلہ کیا ہے

حاشیے اپنے، متن ہے ان کا

محتسب! پھر سزا جزا کیا ہے

ان کو ہے دعوٰئ مسیحائی 

جو نہیں جانتے شفا کیا ہے 

لے اڑے گی بلند پروازی 

دوستو! سایۂ ہما کیا ہے 

اتنی افراط، ایسی محرومی 

دینے والے! معاملہ کیا ہے 

سیل شام و سحر میں بہتے ہیں 

کیا خبر زیست کیا قضا کیا ہے 

ہم ہی چپ ہو گئے تمنائی

دے رہا ہے کوئی صدا کیا ہے 


عزیز تمنائی

No comments:

Post a Comment