یہ نفرت کا بغیچہ خاک کر دیں
چلو ہم اپنا غصہ خاک کر دیں
کچھ اک کردار اِترانے لگے ہیں
یہ گویا سارا قصہ خاک کر دیں
ہمارے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ہمیں بتلاؤ رستہ خاک کر دیں
ہمیں نے دشت سے زم زم نکالا
جو ہم چاہیں تو دریا خاک کر دیں
ہمیں ڈر ہے جنہیں منصب ملا ہے
کہیں وہ ہی نہ نقشہ خاک کر دیں
یہ اک دن اپنی کمزوری بنے گی
چلو سب فتنہ وِتنا خاک کر دیں
محبت کس طرح ثابت کریں ہم
بتا اب خود کو کتنا خاک کر دیں
ادب اتنا کہ قدموں میں پڑے ہیں
انا اتنی کہ لنکا خاک کر دیں
تجھے تو خاک کر ہی دیں گے اک دن
مگر پہلے یہ رشتہ خاک کر دیں
شاد صدیقی
No comments:
Post a Comment