یوں تو ہر درد دوا چاہتا ہے
دل مگر اور سزا چاہتا ہے
ہاتھ چھوڑا اور کہا اس نے
ختم لمحۂ وصل ہوا چاہتا ہے
آنکھ روتی ہے اور کہتی ہے
دل تجھے بے پناہ چاہتا ہے
دل بھی رک رک کہ دھڑکتا ہے
شاید جان لیوا حادثہ چاہتا ہے
خوش ہوں اس کی چاہت میں
اب جیسے میرا خدا چاہتا ہے
آصفہ راجپوت
No comments:
Post a Comment