Monday, 12 April 2021

‎یوں تو ہر درد دوا چاہتا ہے

 ‎یوں تو ہر درد دوا چاہتا ہے

‎دل مگر اور سزا چاہتا ہے

‎ہاتھ چھوڑا اور کہا اس نے

‎ختم لمحۂ وصل ہوا چاہتا ہے

‎آنکھ روتی ہے اور کہتی ہے

‎دل تجھے بے پناہ چاہتا ہے

‎دل بھی رک رک کہ دھڑکتا ہے

‎شاید جان لیوا حادثہ چاہتا ہے

‎خوش ہوں اس کی چاہت میں

‎اب جیسے میرا خدا چاہتا ہے


آصفہ راجپوت

No comments:

Post a Comment