Friday, 7 May 2021

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے

 ایسا علاجِ حبسِ دلِ زار چاہئے

اک در فصیلِ جاں میں ہوا دار چاہئے

اک جھیل نغمہ ریز ہو اہلِ سفر کے ساتھ

سر سبز دُور تک صفِ اشجار چاہئے

صحرا کفِ تموّجِ دریا میں ہو اسیر

شعلہ ہوا سے بر سرِ پیکار چاہئے

یہ روح ایک طائرِ وحشی نژاد ہے

ہر دم سفر کے واسطے تیار چاہئے

اپنے فروغِ حٗسن کی تشہیر کے لیے

شہزادئ خیال کو دربار چاہئے

اس شہرِ خشت و سنگ کو شیشے کی چاہ ہے

کوئی جوان آئینہ بردار چاہئے

بازارِ آرزو میں کٹی جا رہی ہے عمر

ہم کو خرید لے وہ خریدار چاہئے


عظیم حیدر 

No comments:

Post a Comment