Friday, 7 May 2021

آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج

 آسمانوں سے اتر کر مِری دھرتی پہ بِراج

میں تجھے دوں گا پنپتے ہوئے گیتوں کا خراج

دل کے صحرا پہ برس چیت کے بادل کی طرح

خشک ٹیلے کو بھی دے پھُولتی سرسوں کا مزاج

نبض حالات میں اب رینگ کے چلتا ہے لہو

کاش رکھ لے تو اترتے ہوئے دریا کی لاج

چاند بن کر ذرا انسان کے ماتھے پہ ابھر

تیرے جلووں کو ترستا ہے یہ تاریک سماج

بجھتے جاتے ہیں ستاروں کے فنا رنگ کنول

آ سر‌ وقت پہ رکھ جھوم کے خورشید کا تاج


شیر افضل جعفری 

No comments:

Post a Comment