Tuesday, 5 July 2022

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے

 جو بھی عزت کے ڈر سے، ڈر جائے

مت کرے عشق، اپنے گھر جائے

بات آ جائے جب دعاؤں پر

اس سے بہتر ہے بندہ مر جائے

تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ

میری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے

اَلْمُھَیْمِنْ کے گھر بھی خطرے ہیں

جائے بھی تو کوئی کدھر جائے

ہاں، عقیدہ اگر نہ قید رکھے

پھر تو انسان کچھ بھی کر جائے

بے بسی کی یہ آخری حد ہے

میری اولاد آپ پر جائے

اس کے چہرے پہ آج اداسی تھی

ہائے، افکار علوی مر جائے


افکار علوی

No comments:

Post a Comment