Friday, 14 May 2021

میں باغی ہوں میں باغی ہوں سچ کہتا ہوں

 توشک میں اب نہ رہ ظالم 

میں باغی ہوں میں باغی ہوں، سچ کہتا ہوں 

میں کہتا ہوں


میں باغی ان جاگیروں کا 

ان ملا پنڈت پیروں کا 

جو جھوٹے فتوے دیتے ہیں مل کے ان امیروں سے

میں سچا ہوں سچ کہتا ہوں 

باغی ہوں میں باغی ہوں، سچ کہتا ہوں 

میں کہتا ہوں


میں باغی ان دستوروں کا یاں خون بہے مزدوروں کا

زردار خدا بن بیٹھا ہے کیوں بے کس اور مجبوروں کا 

میں سوچ اسی میں رہتا ہوں، سچ کہتا ہوں 

میں باغی ہوں میں باغی ہوں

میں کہتا ہوں


میری ہستی ایک بغاوت ہے مجھے سچ کہنے کی عادت ہے 

میں مظلوموں کا حامی ہوں کریں ظلم جو ان سے نفرت ہے

میں دکھ ہزاروں سہتا ہوں، سچ کہتا ہوں 

میں باغی ہوں میں باغی ہوں

میں کہتا ہوں


افکار علوی

No comments:

Post a Comment