Friday, 14 May 2021

ہم جانتے ہیں یہ دنیا ہمیں جینے نہیں دے گی

 رشتے کی سچائی


ہم جانتے ہیں

یہ دنیا ہمیں جینے نہیں دے گی

فاصلے کی دیواریں

ہم دونوں کے درمیان

بڑھتی رہیں گی

یہ کیسا رشتہ ہے

ہم دونوں اپنے اپنے احساسات سے واقف ہیں

مگر یہ رسم و رواج

آدمی سے آدمی کی تفریق کے

ہم دونوں محض اپنی آنکھوں کے علاوہ

ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے

آب زم زم یا گنگا جل

ایک رنگ، ایک خمار اور ایک احساس

کیوں نہ ہم دونوں

ایک آفاقی رشتے سے

منسلک ہو جائیں

ایسے رشتے سے

کہ جہاں تلواریں جھک جاتی ہیں

اور انگارے بن جاتے ہیں پھول

اور نیلا آسمان مسکرا اٹھتا ہے

آؤ آج

تم میری کلائی میں یہ راکھی باندھ دو

ہم دونوں اپنی اپنی

انوکھی چاہت کے حوالے سے

بن جائیں جنم جنم کے ساتھی

اٹوٹ ہو جائیں گے جب

پھر شاید زمانہ انگلی نہیں اٹھا سکے گا


احسان ثاقب

No comments:

Post a Comment