ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی
شب کے سناٹوں میں جب روبرو تنہائی ہوئی
آپ کا بزم سے اٹھا جانا مِرے حق میں رہا
آپ کے بعد مِری خوب پذیرائی ہوئی
پیاس زخمی رہی زندان کے دروازوں تک
بہتے دریاؤ! کہاں تم سے مسیحائی ہوئی
کیا عجب دشتِ محبت میں مجھے منزل ملی
گرد اڑتی تھی بہت اور پسِ بینائی ہوئی
پہلے کچھ ابر کے ٹکڑوں سا تھا لرزاں اس پر
بعد میں کیا ہوا کیوں شکل تھی گہنائی ہوئی
ایک مدت ہوئی جس لاش کو دفنائے ہوئے
آج وہ لاش ملی نہر میں اترائی ہوئی
صرف میراثِ شہادت ہی نہیں حصے میں
دولتِ گریۂ مظلوم بھی آبائی ہوئی
رہبر سلطانی
No comments:
Post a Comment