اس توقع میں شب و روز گزارا جائے
چڑھتی سانسوں کا کہیں بوجھ اتارا جائے
ہم سبھی لوگ ہیں پانی کی تہوں میں بیٹھے
موج طے کرتی ہے کب کس کو ابھارا جائے
اپنے اطراف کے سناٹے کو بھرنے کے لیے
آ کسی درد کے پہلو کو نکھارا جائے
کوچۂ عشق میں زخموں کے نئے طور بھی ہیں
سر ضروری نہیں پتھر پہ ہی مارا جائے
ہجر کے معنوں میں اک معنی میں بتلاؤں تمہیں
یعنی دریا سے الگ ہو کے کنارا جائے
نیند ہے خواب ہے اور چاند ستارے موجود
رات کا وقت ہے کس کس کو پکارا جائے
مختلف رنگ ہیں اس رنگ کی چاہت میں اسیر
اس کے قدموں کے تعاقب میں نظارا جائے
رہبر سلطانی
No comments:
Post a Comment