خدا کی دین سے سامانِ زیست کیا نہ مِلا
مگر یہی کہ مجھے زیست کا مزا نہ ملا
نوائے دل کو کوئی پردہ سازگار نہیں
چمن میں نالۂ بلبل سے تو گِلہ نہ ملا
سکون نام ہے نقل بلا کے وقفے کا
نشاط زیست کا اس کے سوا پتا نہ ملا
یہ حال تا دم آخر نیاز شوق رہا
بہت ملا جو مجھے نالۂ رسا نہ ملا
مراد دل کی نہ بر آئی اس کو کیا کہیے
جہاں میں دل ہی مجھے حسب مدعا نہ ملا
کسی بہانے تو جانا ہے کوئے دلبر میں
تلاش دل سے غرض کیا ملا ملا نہ ملا
خلوص عشق سے ملتا رہا غم پیہم
ہنوز میری وفا کا کوئی صلہ نہ ملا
وہ ایک اور یہاں آشنائے درد ہزار
بھلا ہوا جو دلِ درد آشنا نہ ملا
کھلا تو ہے ابھی شاکر درِ خزانۂ غیب
ملے کسے کہ یہاں قسمت آزما نہ ملا
علامہ شاکر نائطی
No comments:
Post a Comment