Monday, 9 August 2021

کہاں ہے پیار کی تھپکی، پذیرائی کہاں ہے

 کہاں ہے پیار کی تھپکی، پذیرائی کہاں ہے

تبھی تو شاعری میں دوست گہرائی کہاں ہے

میں کس کے سامنے اپنا دلِ بےتاب کھولوں

نیا ہوں شہر میں اب تک شناسائی کہاں ہے

کبھی تھی ان سے وابستہ کہانی، جانتے ہو

سجی تو ہیں مگر آنکھوں میں بینائی کہاں ہے

مجھے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے تھے

ابھی سوچوں گلی، کُوچے وہ ہمسائی کہاں ہے

مبادا بُھول بیٹھوں میں تمہارا ناک نقشہ

کہاں ہے بیوفا تُو، میرے ہرجائی کہاں ہے

جگر پر جا بجا سرطان پلتے ہیں، مسیحا

تمہاری چشم تاثیریں، مسیحائی کہاں ہے

مجھے تسلیم جذبے ڈھل چکے ہیں میرے لیکن

تمہارے حسن کی پہلی سی رعنائی کہاں ہے

ارادے سے نہیں بس بے ارادہ پوچھ بیٹھا

کمانیں کھینچ کے رکھتی وہ انگڑائی کہاں ہے

میں اپنے آپ کو بے وجہ قیدی مانتا ہوں

کِسی نے زُلف کی زنجیر پہنائی کہاں ہے

نہیں روٹی تو ہم کو چاہئے کھائیں سموسے

ہمارے ہاں تو سب اچھا ہے، مہنگائی کہاں ہے

سُنائی دے رہے ہیں چار سُو اب غم کے نوحے

کبھی گونجی تھی جو حسرتؔ وہ شہنائی کہاں ہے 


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment