Monday, 9 August 2021

میرے ساقی یہ تماشا تیرے میخانے کا

 میرے ساقی یہ تماشا تیرے مے خانے کا

ساری محفل کو نشہ ایک ہی پیمانے کا

اب کسی طور سے قابو میں نہیں آنے کا

خلق دیکھے گی تماشا تیرے دیوانے کا

بات کہتا ہے کچھ ایسی کہ نہ سمجھے کوئی

یہ بھی اک غور طلب رنگ ہے دیوانے کا

چشم ساقی ہے اُدھر اور میرا دل ہے اِدھر

آج ٹکراؤ ہے پیمانے سے پیمانے کا

بات پہ بات اٹھا دیتا ہے اک چھیڑ نئی

پڑ گیا ہے اسے چسکا مجھے تڑپانے کا

وہ بہار آئی نصیر اور وہ اٹھے بادل

بات ساغر کی چلے ذکر ہو میخانے کا ​


سید نصیرالدین نصیر

No comments:

Post a Comment