میرے ساقی یہ تماشا تیرے مے خانے کا
ساری محفل کو نشہ ایک ہی پیمانے کا
اب کسی طور سے قابو میں نہیں آنے کا
خلق دیکھے گی تماشا تیرے دیوانے کا
بات کہتا ہے کچھ ایسی کہ نہ سمجھے کوئی
یہ بھی اک غور طلب رنگ ہے دیوانے کا
چشم ساقی ہے اُدھر اور میرا دل ہے اِدھر
آج ٹکراؤ ہے پیمانے سے پیمانے کا
بات پہ بات اٹھا دیتا ہے اک چھیڑ نئی
پڑ گیا ہے اسے چسکا مجھے تڑپانے کا
وہ بہار آئی نصیر اور وہ اٹھے بادل
بات ساغر کی چلے ذکر ہو میخانے کا
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment