Wednesday, 5 May 2021

لمس بھر کی قربت تھی لمحہ بھر کا سپنا تھا

 تم سے کہنا تھا

اک نظر کی فرصت میں

سطحِ دل پہ کھِل اُٹھے

لفظ بھی، معانی بھی

خامشی کی جھلمل میں

آگ بھی تھی پانی بھی

دل نے دھڑکنوں سے بھی

جو کہی نہیں اب تک

ان کہی کہانی بھی

ان کہی کہانی میں

آنکھ بھر تمنا تھی

ہاتھ بھر کی دوری پر

لمس بھر کی قربت تھی

لمحہ بھر کا سپنا تھا


ایوب خاور

No comments:

Post a Comment