عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام
سرِ دشتِ کرب و بلا ابھی وہی رنگِ ماہِ تمام ہے
وہی خیمہ گاہِ سکینہؑ ہے وہی سجدہ گاہِ امامؑ ہے
ابھی چشم و دل سے چھٹے نہیں، تِرے صبر و ضبط کے مرحلے
وہی صبر و ضبط کے مرحلے، وہی تیرے قتل کی شام ہے
وہی مشک شانۂ صبر پر، وہی تیر پیاس کے حلق میں
وہی آبجوئے فُرات ہے، وہی اس کا طرزِ خرام ہے
وہی شامِ کوفہ ہے چار سُو، وہی سطرِ وعدہ لہو لہو
وہی نوکِ خنجر تیز ہے، وہی حرفِ حیلۂ خام ہے
وہی ماتمِ مہِ کربلا،۔ وہی حاصلِ دلِ مُبتلا
یہی رنگ ہے، میرے نُطق کا، یہی میرا رنگِ سلام ہے
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment