عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا
اے زمینِ کربلا،۔ اے آسمانِ کربلا
تجھ کو یاد آتے تو ہوں گے ر فتگان کربلا
کر رہے ہیں ذکر ان کے حق کو پہچانے بغیر
سلسلے باطل کے اور زعمِ بیانِ کربلا
کچھ بُریدہ بازوؤں والے نے لکھی ریت پر
کچھ کہانی کہہ گیا اک بے زبانِ کربلا
اپنے اپنے زاویے سے اپنے اپنے ڈھنگ سے
ایک عالم لکھ رہا ہے داستانِ کربلا
مصحفِ ناطق تلاوت کر رہا تھا وقتِ عصر
سُن رہے تھے خاک پر آسودگانِ کربلا
ٹھوکروں میں ہے شکوہ و شوکتِ دربارِ شام
کوئی حُر کے دل سے پوچھے عز و شانِ کربلا
استغاثے کی صدا آتی ہے؛ اٹھو، افتخار
استغاثہ جس میں شامل ہے اذانِ کربلا
افتخار عارف
No comments:
Post a Comment