کسے تمہاری نظر کے دیے پسند نہیں
وہ میری آنکھ سے دیکھے جسے پسند نہیں
یہ میری زندگی کا مسئلہ ہے کچھ تو سمجھ
ہزار بار کہا، وہ مجھے پسند نہیں
تمہارے ہونٹ جہاں مس ہوئے گلاس کے ساتھ
وہیں سے دوسرا کوئی پیے، پسند نہیں
مرا رویہ ہے سچ بات منہ پہ کہنے کا
وہ شخص بھاڑ میں جائے جسے پسند نہیں
یہ صرف تیری محبت کا پاس ہے، ورنہ
ترے پسند کی ہر شے مجھے پسند نہیں
تُو آشنا مری عادت سے خوب واقف ہے
مجھے رلا کے کوئی بھی ہنسے پسند نہیں
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment