Monday, 21 June 2021

آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ

 آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ

سوکھا رومال مِرے ضبط کی زنبیل سمجھ

تم نے اس ہجر کے زنداں میں قدم رکھا ہے

چاروں اطراف کے دروازوں کو اب سِیل سمجھ

ایک مدت سے جڑا ہوں کسی تصویر کے ساتھ

مجھ کو دیوار میں گاڑا ہوا اک کِیل سمجھ

زلزلہ، چیونٹی کی بِل سے بھی نکل سکتا ہے

کر نہ ایسے کسی مزدور کی تذلیل، سمجھ

یہ مِری چوٹ نے پہنا ہے کفن سا ملبوس

اس کو مت داغِ برص جان، اسے نیل سمجھ

قیدِ مذہب نہ لگا عشق کو محدود نہ کر

عشق آیت ہے میاں، عشق کو انجیل سمجھ


احمد آشنا

No comments:

Post a Comment