پوچھ رہے ہو ہم سے کہ ہم اس پر کتنا خرچ ہوئے؟
کچھ بھی باقی پاس نہیں ہے، مطلب سارا خرچ ہوئے
خود کو جب سنبھال رکھا تو اپنے لفظ بھی پاس رکھے
خرچ ہوئے جب ہم تو کوئی ایسا ویسا خرچ ہوئے
اک مُسکان کے بدلے نیندیں دیں اور دل کے بدلے جان
بولو پیارے! بخت ڈھلے ہم، تم پہ کیسا خرچ ہوئے؟
اس کے ہاتھ میں ہم نے اپنی آخری سانسیں لیں یارو
مرنا حق ہے، لیکن دیکھو کتنا پیارا خرچ ہوئے
ان ہونٹوں کی مُسکانوں نے پھولوں کو بھی ہیچ کیا
جھیل سی آنکھیں بھرنے میں پنجاب کے دریا خرچ ہوئے
حسن رضا
No comments:
Post a Comment