کٹ گئی عمر تِرے درد کو ریزہ کرتے
کتنے دیوان ہوئے غم کا خلاصہ کرتے
جانے اس شخص کے کتنوں نے بھرم توڑے ہیں
اب جو ڈرتا ہے خدا پر بھی بھروسہ کرتے
یعنی ہم لوگ تِرے نقش قدم پر چلتے
کہ دُکاں کھولتے اور جھوٹ کو بیچا کرتے
چار کونوں میں پڑی ہوتی ہیں آنکھیں اس کی
رکھ کے کمرے میں شرابیں بھلا توبہ کرتے
ان درختوں میں کوئی وصفِ خداوندی ہے
چھاؤں دیتے ہوئے مذہب نہیں پوچھا کرتے
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment