سوز غم سے جل رہا ہوں دیکھتا کوئی نہیں
کیا بُتوں کا شہر ہے، غم آشنا کوئی نہیں
کس کے آگے سر جُھکاؤں دیوتا کوئی نہیں
پتھروں کے شہر میں میرا خدا کوئی نہیں
ظلم و استبداد کا اک سلسلہ ہے اس کے ساتھ
یہ سمجھتا ہے وہ شاید کہ؛ خدا کوئی نہیں
تیرے در سے اٹھ کے جائیں تو کدھر جائیں بتا
جس طرف بھی دیکھتے ہیں راستہ کوئی نہیں
دوریاں ہوتیں دلوں میں تو مٹا لیتے انہیں
کس لیے بڑھ کر ملیں کہ فاصلہ کوئی نہیں
حُسن ہے مغرور پر اپنی انا کو کیا ہوا
کس کو اتنا وقت ہے یہ سوچتا کوئی نہیں
زخم ہائے دل دکھا کر کیا ملا نغمی اسے
جس نظر میں قیمتِ جنسِ وفا کوئی نہیں
ابرار نغمی
No comments:
Post a Comment