Wednesday, 20 October 2021

اک خطا اس کے روبرو کی تھی

 اک خطا اس کے روبرو کی تھی

گھر بنانے کی آرزو کی تھی

تنکا تنکا ہی جوڑنا چاہا

آشیانے کی جستجو کی تھی

ہر قدم پر جلا کے دل کا دِیا

روشنی میں نے چار سُو کی تھی

بیچ رستے سے ہی پلٹ آئی

جو دعا میں نے با وضو کی تھی

خواب رُوٹھے ہيں آج بھی مجھ سے

میں نے آنکھوں سے گفتگو کی تھی

میں زمانے سے کيا گِلہ کرتی

بے رُخی اس نے دوبدو کی تھی

ایک قطرہ نہ مل سکا ہم کو

تشنگی کم سے کم سبُو کی تھی

کون مرہم لگاتا زخموں پر

زندگی خود لہو لہو کی  تھی

ناز تم نے بھی کس زمانے میں

سر چھپانے کی آرزو کی تھی


ناز ہاشمی

ایس ناز

No comments:

Post a Comment