عورت
میں عورت ہوں
مری قسمت نرالی ہے
کہ اپنی گود میں
یہ غم کی دیوی میں نے پالی ہے
کئی رشتے بنائے ہیں
ہزاروں رنج اٹھائے ہیں
ہزاروں کو کِیا خوشحال میں نے اپنے بوتے پر
ہزاروں کو دلائی
کلفت و آلام سے رُخصت
میں عورت ہوں
مِری حسرت، رہی حسرت
ملی ہے کب مجھے چاہت
مقدر میں مِرے لکھی گئی ہجرت
نہ فُرقت اور نہ قُربت
ملی ہے جن کو مجھ سے
مُفت کی شہرت
وہ جانے کس لیے، کیونکر
یہاں بیے گانہ وار آئے
حیا و شرم و عفت کو
کہاں، کیسے اُتار آئے
مگر خاموش رہنا پڑ گیا مجھ کو
یہی اک رنج تھا
جو بر سرِ دنیا ہی سہنا پڑ گیا مجھکو
مِری پھر کس نے نے سُننا تھی
یہاں پہ راج تھا مردوں کا جانِ جاں
یہی میری تھی مجبوری
یہی میری ہے مجبوری
میں عورت تھی
میں عورت ہوں
رابعہ ملک
No comments:
Post a Comment