Tuesday, 8 February 2022

اپنا حصہ چھیننے کو مستعد تھے

 اپنا حصہ چھیننے کو مستعد تھے

گھر کے بٹوارے پہ سب بھائی بضد تھے

کون دیتا پیاس کو دو گھونٹ پانی

سرد موسم میں کنوئیں سب منجمد تھے

کس طرح ان کی ہتک کرتے وہ برداشت

لوگ جن کی عظمتوں کے معتقد تھے

کر دیا رُسوا انہیں اک دن اسی نے

جس ادارے کے وہ برسوں معتمد تھے

پُھوٹ تو تھی ہم شریفوں کے گھروں میں

بدمعاشوں کے گھرانے متحد تھے

امتحاں بچوں کا سر پر آ پڑا تھا

اور بستی بستی جلسے منعقد تھے

سب جو کہتے تھے وہی کہتے تھے ہم بھی

صرف صابر! طرز اپنے منفرد تھے


حلیم صابر

No comments:

Post a Comment