Tuesday, 8 February 2022

دھیرے دھیرے یہ رگ و پے میں اترتی ہوئی آگ

 دھیرے دھیرے یہ رگ و پے میں اترتی ہوئی آگ

راکھ کر دے نہ مجھے دل سے گزرتی ہوئی آگ

اپنے اندر کسی کونے میں سِمٹتا ہوا میں

اور مجھ میں یہ ہر اک سمت بکھرتی ہوئی آگ

لمحہ لمحہ یہ مِرے سینے میں جلتا ہوا دل

قطرہ قطرہ یہ مِرے خوں میں نکھرتی ہوئی آگ

کیا کسی آتشِ رفتہ کا نشاں ڈھونڈتی ہے؟

کیوں اچانک ہے بھڑکنے لگی مرتی ہوئی آگ

آج ناقابلِ برداشت سی کیوں ہے یہ تپش

کیوں جلاتی ہے مجھے آج یہ برتی ہوئی آگ

ہر کسی دل میں کہیں ہے کوئی چنگاری دبی

ہر نفس میں ہے نہاں کوئی ابھرتی ہوئی آگ


یحییٰ خان یوسفزئی

No comments:

Post a Comment