Monday, 18 October 2021

تجھ سے ٹوٹا ربط تو پھر اور کیا رہ جائے گا

 تجھ سے ٹوٹا ربط تو پھر اور کیا رہ جائے گا

انتشار ذات کا اک سلسلہ رہ جائے گا

قربتیں مٹ جائیں گی اور فاصلہ رہ جائے گا

چند یادوں کے سوا بس اور کیا رہ جائے گا

یہ تغافل ایک دن اک سانحہ بن جائے گا

عکس تو کھو جائے گا اور آئنہ رہ جائے گا

وقت میں لمحہ سا میں تحلیل ہوتا جاؤں گا

خالی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتا رہ جائے گا

ایک شاعر اک حسیں سے شعر کی خاطر مٹا

وقت کی تحویل میں یہ واقعہ رہ جائے گا

سرد مہری کے کہر میں اس کا چہرہ کیا ملے

ان دھندلکوں میں اسے تو ڈھونڈھتا رہ جائے گا

ایک سایہ نرم و نازک چھوڑ کر جو چل دیا

سر پہ سورج اک مسافر راستہ رہ جائے گا


شکیل دسنوی

No comments:

Post a Comment