Monday, 18 October 2021

ایک راجہ تھا ایک رانی تھی

 ایک راجہ تھا ایک رانی تھی

لوگ کہتے ہیں یہ کہانی تھی

اک جدائی کی بات اس نے بس

خیر، کوئی تو بات مانی تھی

یار پھر اس کا ذکر لے بیٹھا

چھوڑ اب جانے دے وہ جانی تھی

رزق لے آیا کس گلی میں پھر

اس گلی کی تو خاک چھانی تھی

رو رہا ہے جو شخص اس نے تو

آج میری ہنسی اڑانی تھی


زیب اوریا

No comments:

Post a Comment