دل کی ضرورت لب تک لانی پڑتی ہے
لفظوں سے کیوں بات بنانی پڑتی ہے
پھل نہیں دیتی خاموشی خاموشی سے
اس کے لیے آواز اٹھانی پڑتی ہے
پہلے ہنسی خود آ جاتی تھی ہونٹوں پر
اب بہلا پھسلا کر لانی پڑتی ہے
سورج صاحب کنجوسی کرتے ہیں جہاں
وہاں پر اپنی دھوپ بنانی پڑتی ہے
اچھا سودا پہلے خود بک جاتا تھا
لیکن اب آواز لگانی پڑتی ہے
سوچتا ہے ہر روز بھلانے کا تجھ کو
روز ہی دل کو منہ کی کھانی پڑتی ہے
دشت نوردی عشق میں کوئی کھیل نہیں
ہم کو اپنی گرد اڑانی پڑتی ہے
یہاں کسی کو کوئی مقام نہیں دیتا
اپنی جگہ ارمان بنانی پڑتی ہے
علی ارمان
No comments:
Post a Comment