Monday, 18 October 2021

کچھ ایسا ربط مسلسل رہا شعور سے بھی

  کچھ ایسا ربط مسلسل رہا شعور سے بھی

کہ خوف آنے لگا عشق کے وفور سے بھی

وہ شش جہات سے یکساں دکھائی دیتا ہے

اسے قریب سے دیکھا ہے اور دور سے بھی

ہمارا عشق حقیقت میں غارِ ثور و حرا

اگرچہ خاص عقیدت ہمیں ہے طور سے بھی

سنا ہے خاص تعلق ہے خارجیت کا

ہماری ذات کے کچھ داخلی امور سے بھی

تبھی تو ذہن پہ حاوی ہے عشقِ صحرائی

ازل سے دل کے مراسم رہے کھجور سے بھی

یہ اور بات ہے مانو کہ اختلاف کرو

نشانیاں تو ہزاروں ملیں زبور سے بھی

لہو میں رقص کناں عشق ہے مِرے فیصل

جڑا ہوا ہے کوئی سلسلہ قصور سے بھی


فیصل ندیم

No comments:

Post a Comment