Tuesday, 6 October 2020

کسی مورت جیسی صورت پر اک سایہ نور اجالوں کا

 کسی مورت جیسی صورت پر اک سایہ نور اجالوں کا

کسی چال جمال خیال کی چھب پر واہمہ پڑے غزالوں کا

اس شہر کا جب بھی حال سنے، دل اندیشوں کے جال بنے

جس کی گلیوں میں بکھرا ہے سرمایہ گزرے سالوں کا

کسی بانکے پیڑ کی لچکیلی بانہوں میں کریں آنکھیں گیلی

کسی نرم ہوا کے پھاہوں سے کریں درماں دل کے چھالوں کا

کوئی سایہ سر پر ہاتھ رکھے، کوئی ڈھارس آنکھ کے اشک چنے

کوئی پیچھے رہنے والوں کو، دے پُرسہ جانے والوں کا

کچھ یادیں، موسم تابندہ، کچھ عکس اور خواب سدا زندہ

دل عجب عجائب خانہ ہے، کچھ تصویروں، تمثالوں کا


عابد سیال

No comments:

Post a Comment