کسی مورت جیسی صورت پر اک سایہ نور اجالوں کا
کسی چال جمال خیال کی چھب پر واہمہ پڑے غزالوں کا
اس شہر کا جب بھی حال سنے، دل اندیشوں کے جال بنے
جس کی گلیوں میں بکھرا ہے سرمایہ گزرے سالوں کا
کسی بانکے پیڑ کی لچکیلی بانہوں میں کریں آنکھیں گیلی
کسی نرم ہوا کے پھاہوں سے کریں درماں دل کے چھالوں کا
کوئی سایہ سر پر ہاتھ رکھے، کوئی ڈھارس آنکھ کے اشک چنے
کوئی پیچھے رہنے والوں کو، دے پُرسہ جانے والوں کا
کچھ یادیں، موسم تابندہ، کچھ عکس اور خواب سدا زندہ
دل عجب عجائب خانہ ہے، کچھ تصویروں، تمثالوں کا
عابد سیال
No comments:
Post a Comment