Tuesday, 6 October 2020

لینے آئے دوا اداسی کی

 جس طرف تھی ہوا اداسی کی

لینے آئے دوا اداسی کی

ڈوبتے آفتاب کی زردی

دیکھ تو ابتدا اداسی کی

رات ظلمت کی جب اخیر ہوئی

ہو گئی انتہا اداسی کی

میں تو اس پہ خوش ہوا، مرشد

دے گیا ہے دعا اداسی کی

کیا خبر شعر ہو عطا قیصر

چل بنائیں فضا اداسی کی


زبیر قیصر

No comments:

Post a Comment