Wednesday, 9 February 2022

دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے

 دور دیسوں سے بُلائے بھی نہیں جا سکتے

وہ پکھیرو جو بُھلائے بھی نہیں جا سکتے

تُرش خُو، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم

بِنا چکھے، بِنا کھائے بھی نہیں جا سکتے

حیرتِ مرگ، بلاوہ ہے یہ اس جانب سے

جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے

کِرچی کِرچی کی چُبھن سہنا بھی آسان نہیں

خواب آنکھوں سے چُھپائے بھی نہیں جا سکتے

کچھ جو کہتا ہوں تو پھر اپنا ہی دل کٹتا ہے

لوگ اپنے ہیں رُلائے بھی نہیں جا سکتے


عابد سیال

No comments:

Post a Comment