Sunday, 10 January 2021

کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ

 کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ

کہ ہر نمو کا تعلق نہیں بہار کے ساتھ

وہ ایک خموش پرندہ شجر کے ساتھ رہا

چہکنے والے گئے باد سازگار کے ساتھ

کھلے دروں سے طلب گار خواب گاہیں مگر

میں جاگتا رہا اک خواب ہمکنار کے ساتھ

کلی کھلی ہے سر شاخ اور یہ کہتی ہے

کہ کوئی دیکھے تمنائے خوش گوار کے ساتھ

وہ مجھ کو وہ نہ لگا دیکھتا سسکتا ہوا

نگاہ زرد کے ساتھ اور دل فگار کے ساتھ

مدار وقت وہ گنجائشیں ذرا پھر سے

کہ پڑ رہیں کسی دیوار سایہ دار کے ساتھ


عابد سیال

No comments:

Post a Comment