Sunday, 10 January 2021

وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا

 وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا

بھلا میں کون تِرا حرف حرف سچ نکلا

کہا تھا اس نے محبت فریب ہے دل کا

وہ جب بھی دور گیا حرف حرف سچ نکلا

انا پرستی میں اپنی مثال آپ تھا وہ

جو اس نے چاہا کیا حرف حرف سچ نکلا

نہیں ہے کوئی شکایت مجھے زمانے سے

مجھے تھا جو بھی گِلہ حرف حرف سچ نکلا

لکھی تھی اس نے محبت کی بے قراری اور

وہ جو بھی لکھ نہ سکا حرف حرف سچ نکلا

نہیں ہو تم تو اذیت ہے کاروبارِ حیات

یہ جھوٹ تیرا پِیا حرف حرف سچ نکلا 


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment