Sunday, 10 January 2021

جو سزا چاہو محبت سے دو یارو مجھ کو

 جو سزا چاہو محبت سے دو یارو مجھ کو

لیکن اخلاق کے پتھر سے نہ مارو مجھ کو

آبشاروں کی طرح میں نہیں گرنے والا

دھوپ کی طرح پہاڑوں سے اتارو مجھ کو

میں تو ہر حال میں ڈوبوں گا مگر اخلاقاً

یہ ضروری ہے کہ ساحل سے پکارو مجھ کو

عظمتِ تشنہ لبی بھول نہ جاؤ لوگو

پھر کسی دشت سے اک بار گزارو مجھ کو

تم تو ڈوبے ہوئے خورشید کے پروردہ ہو

تم نہیں جانتے اے چاند ستارو مجھ کو 


ہوش جونپوری

(اصغر مہدی ہوش)

No comments:

Post a Comment