Saturday, 9 April 2022

اور تو کچھ نہیں ادھر میرا

 اور تو کچھ نہیں اِدھر میرا

اِک گزارا ہے خواب پر میرا

میں خبر گیریوں کے نرغے میں

دُور بیٹھا ہے بے خبر میرا

ہے یونہی صرفِ کارِ بے مصرف

یہ زرِ عمر بیشتر میرا

میں تو تیری رضا میں راضی ہوں

تُو ذرا خود خیال کر میرا

راہ ڈھلوان، پاؤں لرزیدہ

رائیگانی کا ہے سفر میرا

آہ، اے خوشبوئے گُلِ نورس

تجھ سے رشتہ ہے سانس بھر میرا


عابد سیال

No comments:

Post a Comment